حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیخ ابراہیم زکزاکی کے دفتر کے حوالے سے، 10 محرم 1448 ہجری کو حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی شہادت کی عزاداری کی مجلس نائجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما کی رہائش گاہ، ابوجا شہر میں، اہل بیت علیہم السلام کے محبین کی بڑی تعداد کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔
شیخ ابراہیم زکزاکی نے اس مجلس میں خطاب کے دوران کہا: ایام عاشورا تاریخ سے سبق سیکھنے اور عبرت حاصل کرنے کا وقت ہے۔
انہوں نے کہا: امام حسین علیہ السلام کا قیام اور ان کا ظالموں کے سامنے "نہ" کہنا، ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں کبھی بھی ظلم کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرنا چاہیے نیز اس نے یہ ثابت کیا کہ صرف طاقت یا حکومت کا حامل ہونا، مشروع قیادت کا مطلب نہیں اور نہ ہی اس کی اطاعت کو واجب بناتا ہے۔

اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ نے تحریک کربلا کے دین مبین اسلام کی بقا میں کردار کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا: مکتب امام حسین علیہ السلام جو ایثار اور ظالموں کے مقابلے میں استقامت پر مبنی ہے، وہی عنصر ہے جس نے دین کی بقا اور تداوم کا باعث بنی۔
شیخ زکزاکی نے مزید کہا: موجودہ دور میں جمہوریہ اسلامی ایران کی کامیابی ان تعلیمات سے وابستگی کی ایک عینی اور واضح مثال ہے۔ یہ وہی دینی تعلیم ہے جو حق پر استقامت اور ظلم کے خلاف سرکشی کی ہے، جسے اہل بیت علیہم السلام نے زندہ رکھا۔
اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ نے کہا: امام حسین علیہ السلام کا راستہ یعنی ہر قیمت پر ایثار اور صراط مستقیم پر پائیداری؛ یہی دنیا اور آخرت میں ہماری نجات کا واحد راستہ ہے۔













آپ کا تبصرہ